دامن دل ہے صبا کا خالی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 108
پسند: 0
دامن دل ہے صبا کا خالی
ہو گزر کیسے ہوا کا خالی
آدمی خود بھی کرے گا کوشش
کچھ نہیں ہوتا دعا کا خالی
اسکی نظروں نے عطا کی ہے صحت
کچھ اثر کب ہے دوا کا خالی
ساتھ تھا میرے مرا جان سخن
وار اس بار گیا دیکھ جفا کا خالی
کچھ تو دیدار کرا دو ہم کو
کاسہ دل ہے وفا کا خالی
واپس جائیں