مجھ میں احساس کی جو چمک رہ گئی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 119
پسند: 0
مجھ میں احساس کی جو چمک رہ گئی
یاد اس میں تری بے دھڑک رہ گئی
اُس سے ملنے کا موسم رہا مستقل
پھر بھی شاید ذرا کچھ کسک رہ گئی
دونوں سُنتے ہیں اک دوسرے کی صدا
قدر اب صرف یہ مشترک رہ گئی
بادباں ٹوٹ کر پانیوں میں گرا
آتے آتے مگر وہ کُمک رہ گئی
تیرا لکھا وفا کو ہے خط مل گیا
جس میں سانسوں کی تیرے مہک رہ گئی
واپس جائیں