دل میں میرے کیا تم نے کہرام نہیں دیکھا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 121
پسند: 1
دل میں میرے کیا تم نے کہرام نہیں دیکھا
لکھا ہوا سانسوں میں کوئی نام نہیں دیکھا
اس پیار کی دنیا کا دستور پرانا ہے
آغاز تو دیکھا ہے انجام نہیں دیکھا
رہتا ہے نگاہوں میں سانسوں پہ بھی قبضہ ہے
اُس جیسا مگر ہم نے گمنام نہیں دیکھا
اللہ نے دی مجھکو اولاد کی جو دولت
ایسا کوئی دنیا میں انعام نہیں دیکھا
یہ وقت وفا نےہاں محنت سے گزارا ہے
ہے شُکرِ خدا کوئی الزام نہیں دیکھا
واپس جائیں