وہ میرے سامنے ہر روز ہارتا ہے مجھے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 114
پسند: 0
وہ میرے سامنے ہر روز ہارتا ہے مجھے
اس طریقے سے اب جاں سے مارتاہے مجھے
وہ شخص جیسے محبت کا اک خدا سا ہے
جو آئینے کی طرح سے سنوارتا ہے مجھے
میں اسکے شعروں میں زندہ ہو آج بھی سچ ہے
وہ اپنے شعروں میں اب بھی نکھارتا ہے مجھے
اسی لیئے تو نہیں ہاتھ تیرا چھوڑتی میں
میں جب بھی ڈوبتی ہوں تو ابھارتا ہے مجھے
وفا زمانے ہوئے ہیں بچھڑ گیا تھا وہ
مگر کمال ہے اب بھی پکارتا ہے مجھے
واپس جائیں