کیا درد ہے میں خود کو بتا سکتی نہیں ہوں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 106
پسند: 0
کیا درد ہے میں خود کو بتا سکتی نہیں ہوں
دل چاہے بھی تو ملنے کو آ سکتی نہیں ہوں
تم ایسے ہو شامل میری سانسوں میں قسم سے
میں چاہوں بھی تو تم کو بھلا سکتی نہیں ہوں
انہونی کا ہونا بھی مقدر سے ہے یارو
ان دانتوں سے پتھر تو چبا سکتی نہیں ہوں
اب اس سے زیادہ کوئی مجبور ہو کتنا
اپنی ہی غزل اُس کو سنا سکتی نہیں ہوں
وہ دیپ جو ہم نے کبھی اک ساتھ جلائے
میں ایسے چراغوں کو بجھا سکتی نہیں ہوں
جو تم سے بچھڑتے ہوئے ریتی پہ لکھا تھا
لکھا ہوا وہ نام مٹا سکتی نہیں ہوں
کرتی ہی نہیں تم سے میں وعدہ کبھی ایسا
وعدہ جو وفا اپنا نبھا سکتی نہیں ہوں
واپس جائیں