درد دل میں فضول رکھا ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 112
پسند: 0
درد دل میں فضول رکھا ہے
یوں مصائب میں طول رکھا ہے
ایک اک لمحہ یاد کرتے ہو
تم نے کب مجھکو بھول رکھا ہے
ساری خوشیاں عطا اسی کی ہیں
جس نے مجھکو ملول رکھا ہے
کتنے برسوں سے اب بھی تازہ ہے
پرس میں اک جو پھول رکھا ہے
وہ جو بھولا اسے بھُلا ہی دیا
ہم نے یہ ہی اصول رکھا ہے
آیت عشق کا خدا نے مرے
یہ ہی وقت نزول رکھا ہے
وہ وفا جو نہیں مقدر میں
ہم نے اُس کو قبول رکھا ہے
واپس جائیں