وفا" شاعرہ -ثمینہ گل وفا
قنبر عارفی۔جرمنی
انسانی زندگی مختلف جذبات سے گندھی ہوئی ہے جن میں محبت ،نفرت،دکھ ،سکھ، دوری و نزدیکی، ہجر فراق ،نرمی سختی،شفقت وہمدردی جیسے کئی جذبات قابل ذکر ہیں ۔جن سے ہر ذی روح کا آئے دن واسطہ رہتا ہے۔
عام انسانی ذہن سوچ یا نظر انہیں معمول کے مطابق لیتی مگر ایک بالغ ذہن اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ جذبات کو خیالات کے سانچے میں ڈھال کر الفاظ کا جامہ پہنا کر سینہ قرطاس پر منتقل کر دے ۔ایک فطین ذہن جب انہی خیالات و جذبات کو خوبصورت ترین لفظوں کا لباس عطا کرتا ہے تو اسے شاعری کہتے ہیں ۔ثمینہ گل وفا کی پہلی تخلیق "وفا "
میرے سامنے ہے جس کے صفحہ در صفحہ مطالعہ نے ایک خوشگوار لطف دیا ہے گل گو کہ نئی لکھنے والی ہیں مگر ان کے لیئے یہ کہنا بےجا نہ ہو گا کہ وہ فطری شاعرہ ہیں ان کی بیشتر نظموں اور،اشعار میں الفاظ کی برجستگی استعاروں کا خوبصورت استعمال بھی نمایاں ہے ۔ثمینہ گل اگر اسی طرح لکھتی رہیں تو وہ وقت دور نہیں کہ وہ بہت عمدہ شاعرہ بن کے ابھریں گیں
شاعری کا اصل حسن اس کا مرکزی خیال ہوتا ہے اور ان خیالات کا ثمینہ گل کے پاس فقدان نہیں ہے
ثمینہ گل وفا کے ادبی سفر میں یہ پہلا پڑاوہے اور اس سفر میں مزید پڑاو اور منازل ان کی منتظر ہیں ۔ایک عمدہ اور خوبصورت شاعرہ کے لئے مخلص اور،شاداب دعائیں۔
قنبر عارفی ،جرمنی