لوگ جو بااصول ہیں پیارے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 173
پسند: 0
لوگ جو بااصول ہیں پیارے
سب کو وہ کب قبول ہیں پیارے
چند لمحے وہ تیری قربت کے
ہاں وہ لمحے بھی بھول ہیں پیارے
درس جو تھے مرے بزرگوں کے
عہد نو میں فضول ہیں پیارے
پھول کانٹوں کا کیا مقابلہ ہے
پھول آخر کو پھول ہیں پیارے
ہاں وفا کو جو ٹوٹ کر چاہیں
ایک رُخ سے رسول ہیں پیارے
واپس جائیں