ہارنے کے اصول لکھوں گی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 114
پسند: 0
ہارنے کے اصول لکھوں گی
اپنی وہ پہلی بھول لکھوں گی
خار کو خار ہی کہونگی میں
پھول کو صرف پھول لکھوں گی
اس خسارے کا ذکر ہے از بس
غم ہوئے جو وصول لکھوں گی
ایک خانہ جو اعتراف کا ہے
اُس میں ڈٹ کر قبول لکھوں گی
پھر وفا یہ بھی سوچتی ہوں میں
کیا یہ سب کچھ فضول لکھوں گی
واپس جائیں