یہ تو طے ہے وقت گزرتا ہے پیارے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 111
پسند: 0
یہ تو طے ہے وقت گزرتا ہے پیارے
لیکن انساں روز بکھرتا ہے پیارے
سارا دن بھی تم سے باتیں کرتی ہوں
خوابوں میں بھی باتیں کرتا ہے پیارے
یہ ہی بات تو ساقی کو معلوم نہیں
خالی جام کبھی کیا بھرتا ہے پیارے
تیرا نام ہے محور میری شاعری کا
تیرا نام غزل میں برتا ہے پیارے
انساں کے بارے میں یہ بتلاو وفا
اک لمحے میں کیسےمرتا ہے پیارے
واپس جائیں