کیسے ہو چارہ گری دنیا سے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 120
پسند: 0
کیسے ہو چارہ گری دنیا سے
خوف آتا ہے بھری دنیا سے
دے دیا اپنا سکوں دنیا کو
اور لی دربدری دنیا سے
کچھ طلب ہی نہیں شاہا ہم کو
چاہیئے کیا ہے تری دنیا سے
ہر طرف ملتے ہیں کھوٹے سکے
نام کی صرف کھری دنیا سے
حاکم وقت جہالت ہے وفا
جا چکی دیدہ وری دنیا سے
واپس جائیں