قائم لہو کی سرخی مگر چہرہ زرد ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 107
پسند: 0
قائم لہو کی سرخی مگر چہرہ زرد ہے
سارا بدن سفر میں میرا گرد گرد ہے
وہ جب گلے ملا تو یہ کہنا پڑا مجھے
بے شک ہے ہاتھ گرم مگر لہجہ سرد ہے
فُٹ پاتھ پر پڑی ہوئی اک لاش کا سوال
کیا شہر میں تمہارے کوئی ایک مرد ہے
اک روز بھی تو اسکی کسک کم نہیں ہوئی
سینے میں اس فقیر کے یہ کیسا درد ہے
جو سر جھکا کے مجھکوکئی سال تک ملا
وہ بھی وفا ہمارے قبیلے کا فرد ہے
واپس جائیں