بے ظرف تھے جو کم کو زیادہ سمجھ لیا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 110
پسند: 0
بے ظرف تھے جو کم کو زیادہ سمجھ لیا
تیرے ہر اک مذاق کو وعدہ سمجھ لیا
اس بار تم نے بزم میں دیکھا نہیں ہمیں
بے عزتی کا ہم نے اعادہ سمجھ لیا
الزام اسکو دیں بھی تو کس منہ سے دوستو
اپنی خطا ہے اسکو جو سادہ سمجھ لیا
پھر جو ہمارے ساتھ ہوا کب غلط ہوا
جب بند ذہن کو بھی کُشادہ سمجھ لیا
میں نے بھی خود کو منکشف ہونے نہیں دیا
نیت سے پہلے اس نے ارادہ سمجھ لیا
شطرنج میں جومات ہوئی بھی تو اس لیئے
ہم نے ترے وزیر کو پیادہ سمجھ لیا
بے چہرگی کا فائدہ مجھکو وفا ہوا
تجھ کو پہن کے ہم نے لبادہ سمجھ لیا
واپس جائیں