میں تم کو جب برابر سوچتی ہوں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 129
پسند: 0
میں تم کو جب برابر سوچتی ہوں
عبادت کے ہی ہمسر سوچتی ہوں
زیادہ تو نہیں میں سوچتی پر
جو سوچوں تو میں اکثر سوچتی ہوں
میں برسوں بعد اب بھی اے سخنور
تجھے ملنے کا منظر سوچتی ہوں
ہے جن شعروں میں تیرا عکس بنتا
انہی شعروں کے شاعر سوچتی ہوں
تیرا مجھکو نہ ملنا ہار کب ہے
اسے قسمت کا چکر سوچتی ہوں
کبھی سرداریوں کا ذکر آئے
فقط وہ ہی قد آور سوچتی ہوں
کوئی حد کب وفا ہے سوچنے کی
تو جتنا ہے میسر سوچتی ہوں
واپس جائیں