میں کل کی رات محبت کے سائبان میں تھی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 115
پسند: 0
میں کل کی رات محبت کے سائبان میں تھی
یہاں نہیں تھی کسی اور ہی جہان میں تھی
میں اس کے ساتھ جہانوں میں گھومتی ہی رہی
زمیں پہ جسم تھا اور خود میں آسمان میں تھی
عجیب معجزہ تھا عشق کے فسانے کا
کہاں پہ شب کوئی ایسی بھلا گمان میں تھی
وہ جسکو سوچ کے سانسوں میں پھول کھلنے لگے
نہ جانے کون تھا وہ کس کے میں دھیان میں تھی
اگرچہ فاصلہ یکسر کوئی نہیں تھا مگر
بس ایک عہد کی زنجیر درمیان میں تھی
وہ نام لیتا تھا میرا تو چاند ہنستا تھا
وفاؔ کمال کی تاثیر اُس زبان میں تھی
واپس جائیں