ملے تو جیسے زمانہ بدل لیا تم نے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 116
پسند: 0
ملے تو جیسے زمانہ بدل لیا تم نے
محبتوں کا ترانہ بدل لیا تم نے
ابھی ابھی تو ملے ہو نظر نواز مجھے
یہ چند روز میں کتنا بدل لیا تم نے
محبتوں میں اسے معجزہ ہی کہتے ہیں
ہاں میرے کہنے پہ لہجہ بدل لیا تم نے
اسی لیئے تو کہا ہے مسافتوں کا امیں
سفر پہ نکلے تو رستہ بدل لیا تم نے
یہ سوچ کر میں خوشی میں ہوئی ہوں دیوانی
وفا کے کہنے پہ چہرہ بدل لیا تم نے
واپس جائیں