بے چین رکھے دکھا کر جو تیری یاد
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 116
پسند: 0
بے چین رکھے دکھا کر جو تیری یاد
پھر نیند کو پکارے ہے شب بھر جو تیری یاد
یہ کیاکہ تجھ سے سوتے میں محوِ سخن ہوں میں
کرتی ہے ایسا حال ہاں اکثرجو تیری یاد
سایہ بنے درخت کا صحرا کی دھوپ میں
ہاں سامنے جب آئے کھُلے سر جو تیری یاد
وعدہ وفائیوں کی جزا ہے وفا یہی
برسائے چار سمت سے پتھرجو تیری یاد
واپس جائیں