وفا کا نام لیا اور دیکھتا ہی رہا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 114
پسند: 0
وفا کا نام لیا اور دیکھتا ہی رہا
وہ مسکرا کے ملا اور دیکھتا ہی رہا
عجیب آگ تھی جیسے وجود میں اسکے
وہ خود ہی جل کے بُجھا اور دیکھتا ہی رہا
یہ معجزہ بھی محبت نے مجھکو دکھلایا
خزاں میں پھول کھلااور دیکھتا ہی رہا
سڑک کنارے وفا سانحہ ہوا ہے یہ
وہ دیکھ کر جو رُکا اور دیکھتا ہی رہا
واپس جائیں