چار سوجھوٹ کا بازار ہے سچ بولتے ہیں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 107
پسند: 0
چار سوجھوٹ کا بازار ہے سچ بولتے ہیں
کب کوئی سچ کا خریدار ہے سچ بولتے ہیں
مجھ کو بچپن سے رہی جھوٹ سے نفرت یارو
مشکل اب کتنا یہ اظہارہے سچ بولتے ہیں
مال وزر کی ہاں سنو کوئی حقیقت ہی نہیں
چیز سب سے بڑی کردار ہے سچ بولتے ہیں
آج اس دور کے شاعر بھی تو درباری ہیں
جھوٹی تعریف کا دربارہے سچ بولتے ہیں
جھوٹ کے سکے کی طاقت کا تو اندازہ نہیں
سچ کی قیمت رسن و دارہے سچ بولتے ہیں
میرا ہر حرف وفاداری کا مظہر ہے سنو
میرا ہر لفظ وفادار ہے سچ بولتے ہیں
بے ضمیروںسے مجھے کوئی سروکار نہیں
ہاں ضمیر اپنا تو بیدار ہے سچ بولتے ہیں
شہر سنگ میں ذرا تم سوچ سمجھ کر چلنا
ہر کوئی آئنہ بردار ہے سچ بولتے ہیں
ہاں وفا مجھ کو ہے ادراک گناہوں کا مرے
کب کوئی مجھ سا گنہ گار ہے سچ بولتے ہیں
واپس جائیں