اک نور چار جانب بکھرتا چلا گیا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 110
پسند: 0
اک نور چار جانب بکھرتا چلا گیا
ہر روز زندگی کا سنورتا چلا گیا
ملنے کے بعد اس سے اسطرح سے ہوا ہے
اک چاند میرے دل میں ابھرتا چلا گیا
وہ میری زندگی میں اترا ظہور بن کے
پھر جان و دل میں سیدھا اترتا چلا گیا
اب یہ نصیب میرا جیسے کہ روشنی ہے
پہلے نصیب جو تھا بگڑتا چلا گیا
اس نظریے سے پہلے میں آشنا وفا تھی
نظریہ عشق کا اب نکھرتا چلا گیا
واپس جائیں