صرف اُسکا کا ہے کرم یہ مجھے عزت جو ملی
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 99
پسند: 0
صرف اُسکا کا ہے کرم یہ مجھے عزت جو ملی
یہ شرف بھی ہے مرا تیری رفاقت جو ملی
میری ہر سانس میں ہےشُکر ترا رب قدیر
ایسے ماحول میں بھی روح عبادت جو ملی
معجزہ ہے یہ شبستان وفا کا بے شک
ساتھ تیرا نہ ملا ہاں تری قسمت جو ملی
آیت عشق کے معنی مجھے آئے ہیں سمجھ
اسم اعظم کی تلاوت کی اجازت جو ملی
میرے ماں باپ کی مجھکو ہیں دعائیں یہ وفا
دشمنوںسے بھی مجھے صرف محبت جو ملی
واپس جائیں