سفر سے جو پلٹنا پڑ گیا ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 111
پسند: 0
سفر سے جو پلٹنا پڑ گیا ہے
خود اپنے میں سمٹنا پڑ گیا ہے
یہ کیسی زندگی ہے سوچتی ہوں
کئی حصوں میں بٹنا پڑ گیا ہے
غم دل کی حقیقت جان لی ہے
غم جاں سے لپٹنا پڑ گیا ہے
میں اُسکو بھول کر ہاں مطمئن تھی
یہ پھر سے کیوں تڑپنا پڑ گیا ہے
وفا یہ سوچتی ہوں کیا ہوا ہے
مجہے محور سے ہٹنا پڑ گیا ہے
واپس جائیں