ہمیشہ بات کا میں کس لیئے آغاز کرتی ہوں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 107
پسند: 0
ہمیشہ بات کا میں کس لیئے آغاز کرتی ہوں
تمہیں معلوم ہے بس تم کو ہی ہم راز کرتی ہوں
تمہاری تلخ باتوں پر توجہ کم ہی دیتی ہوں
تمہارا روٹھ جانا بھی نظر انداز کرتی ہوں
سفر پر جاتے لمحے خط مجھے جو تم نے لکھا تھا
سنو اُس ایک خط پر میں ہمیشہ ناز کرتی ہوں
تمہارے قہقہے میری سماعت چھین لیتے ہیں
میں یادوں کا دریچہ جب کبھی بھی باز کرتی ہوں
وفا تیری خوشی اب اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی
تمہارے ہی پروں کے ساتھ میں پرواز کرتی ہوں
واپس جائیں