چپکے سے مرے دل میں کوئی شخص ہے آیا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 115
پسند: 0
چپکے سے مرے دل میں کوئی شخص ہے آیا
رہتا ہے مرے سر پہ اُسی شخص کا سایہ
جو گیت میرے نام پہ لکھا تھا کسی نے
وہ گیت مری آنکھوں نے ہر روز ہے گایا
چند روز کا یہ عشق کہیں جان نہ لے لے
سچ کہہ دوں فقط ہم نے ترا پیار کمایا
یوسف نے زلیخا سے کہا میری بنو گی
یہ سُن کے زلیخا نے نگاہوں کو جھکایا
بازو پہ کہیں لفظ وفا لکھا تھا اُس نے
اور پیارکا رشتہ بھی وفا ہی سے نبھایا
واپس جائیں