میری قسمت ہے کہ محبوب کی مدحت لکھوں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 116
پسند: 0
میری قسمت ہے کہ محبوب کی مدحت لکھوں
اِس کا مطلب ہے کہ اپنے لیئے جنت لکھوں
سوچتی ہوں کہ میں آنکھوں پہ لکھوں اُسکی غزل
اُسکو میں لکھوں تو بس اپنی ہی صورت لکھوں
دو ہی دن میں مجہے دیوانہ بنایا اُس نے
کیوں نہ پھر اسکو محبت میں عبادت لکھوں
عشق کا راز مجھے جس نے سکھایا اسکی
اپنے اشعار میں کس طرح سے سیرت لکھوں
اُس نے مل کر مری دنیا ہی بدل ڈالی ہے
لفظ وہ لاؤں کہاں سے جو حقیقت لکھوں
سوچ کرایسے وفا میں جو تڑپ جاتی ہوں
کیسے اُس شخص سے اب اپنی میں نسبت لکھوں
واپس جائیں