بس ایک بھوُل پہ مُجھ سے خفا ہُوا ہے وہ
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 130
پسند: 0
بس ایک بھوُل پہ مُجھ سے خفا ہُوا ہے وہ
سمجھ رہا ہے وہ ظالم کہ بے خطا ہے وہ
مجھے یقین ہے اسکی حسین چاہت کا
میں جانتی ہوں کہ بس مجھ کو سوچتا ہے وہ
میں اپنی روح کے دریا میں ڈوب جاتی ہوں
نظر ملا کے کبھی مجھ کو دیکھتا ہے وہ
کھلے دریچے کے اس پار میرا کمرہ ہے
کھلے دریچے سے اُس پار بیٹھتا ہے وہ
وفا کے جسم میں بجلی سی کوند جاتی ہے
جو نیم باز نگاہوں سے جھانکتا ہے وہ
واپس جائیں