دُعا ہے کس کی کہ ہر قدم پر محبتوں کا شجر ملا ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 109
پسند: 0
دُعا ہے کس کی کہ ہر قدم پر محبتوں کا شجر ملا ہے
شجر بھی ایسا کہ جسکی شاخوں میں چاہتوں کا ثمر ملا ہے
ہر ایک کونے میں جسکے بے شک حسین یادوں کی خوشبوئیں ہیں
مرے خدایا کرم ہے تیرا جو مجھکو اک ایسا گھر ملا ہے
میں جسکو چاہوں وہ مجھکو چاہے یہی تو انعام زندگی ہے
نظر کا تیری یہ معجزہ ہے کہ مجھ کو ایسا ہُنر ملا ہے
ہر اک قدم پر یہ تیرا سایہ جو ساتھ میرے رہا ہے جاناں
یہ میری قسمت میرا مقدر سنو پیام سحر ملا ہے
یہ کتنے برسوں سے تیرے سائے سے مستقل میری گفتگو ہے
جہاں نشاں نہ ملیں وفا کے بتاؤ ایسا نگر ملا ہے
واپس جائیں