کسی کے آگے کہو بھلا کیوں دراز دست سوال رکھنا
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 107
پسند: 0
کسی کے آگے کہو بھلا کیوں دراز دست سوال رکھنا
اگر چہ اسکا نصاب فطرت ہر آرزو پائمال رکھنا
ان امتحانوں سے ہی گزرنا ہماری چاہت کی آزمائش
ہوں کتنی بھی مشکلیں مگر تم ان رابطوں کو بحال رکھنا
جو خط کو کھولو تو غور کرنا سطر سطر میں لکھا ہوا ہے
تم اپنی چاہت کی روشنی سے میرا یہ آنگن اجال رکھنا
محبتوں کے یہ راستے سب ہاں خارزاروں کی وادیاں ہیں
مصیبتیں چاہے کیسی آئیں نہ دل میں کوئی ملال رکھنا
یہی محبت کا استعارہ ہوا کے رخ کو بدل بھی دے گا
سنو وفا تم محبتوں کو سنبھل سنبھل کر سنبھال رکھنا
واپس جائیں