اب جو ظالم سے دل لگانا ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 122
پسند: 0
اب جو ظالم سے دل لگانا ہے
لکھنا جیسے نیا فسانہ ہے
مجھکو معلوم ہے میں جانتی ہوں
تم نے بھی مجھ کو آزمانا ہے
کس لیئے اتنی خامشی صاحب
کیا مصبیت یہ دل لگانا ہے؟
کیا غضب کا ھدف ہے دل میرا
کیا غضب کا ترا نشانہ ہے
روز کا تجھ سے ملنا ایسا ہے
سانس کا جیسے آنا جانا ہے
تیری باتیں گُلاب مہکے ہُوئے
تیرا انداز باغیانہ ہے
اب محبت بھی کاروبار وفا
اب وفا کا کہاں زمانہ ہے
واپس جائیں