لکھ کے رکھ دوں تو محبت کو گلہ ہوتا ہے
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 120
پسند: 0
لکھ کے رکھ دوں تو محبت کو گلہ ہوتا ہے
ایسا کب سب کو بھلا زخم ملا ہوتا ہے
وہ تو آتے ہی نہیں ہم کہ بُلا کر ہارے
ایسا کیا عشق کی دنیا میں بھلا ہوتا ہے؟
سانس سینے میں الجھتا ہے تو یوں لگتا ہے
جس طرح زلزلے میں شہر ہلا ہوتا ہے
صاحبِ عقل و فہم کوئی بتائے گا مجھے؟
کیا گریباں کسی عاشق کا سلا ہوتا ہے
اس طرح بدلے ہیں دنیا نے وفا کے معنی
اب تو ہر جیت کا بس ہارصلہ ہوتا ہے
واپس جائیں