لفظ یہ سب وفا کی باتیں ہیں
ثمینہ گل وفا
غزلیات
مشاہدات: 117
پسند: 0
لفظ یہ سب وفا کی باتیں ہیں
تجھ سے بھی اب وفا کی باتیں ہیں
ہے ہر اک بات کا الگ سامع
اپنے سے کب وفا کی باتیں ہیں
جب کسی سے نہیں ہے بات تو پھر
خواب میں تب وفا کی باتیں ہیں
پہلے دن میں ہی ذکر ہوتا تھا
اب تو ہر شب وفا کی باتیں ہیں
شعر گوئی کا دعویٰ کب ہے وفا
ساری بے ڈھب وفا کی باتیں ہیں
واپس جائیں