Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات
متفرق اشعار - فاختہ

متفرق اشعار

ثمینہ گل وفا اشعار مشاہدات: 122 پسند: 0

متفرق اشعار
۔۔۔
کسطرح وفا کہوں کس قدر عذاب ہے
اہل ہوس کے درمیاں زندگی گزارنا
۔۔۔
وفا کی باتیں وفا سنے گی
وفا کی باتیں وفا کہے گی
۔۔۔
ایک ہی شخص ہے جو رہتا ہے
رات دن ہاں دھیان میں میرے
۔۔۔
مجھ کو وفا یہ بات بتائی ہے وقت نے
گزرا ہوا بھی وقت ہے آتا بھی وقت ہے
۔۔۔
وفا میں اسم اعظم لکھ رہی ہوں
اُسے تسخیر کرنا ہے مجھے اب
۔۔۔
اس ہنسی پر نثار سب دُنیا
اس ہنسی کی مثال کوئی نہیں
۔۔۔
روشنی ایک استعارہ ہے
روشنی توڑ ہے اندھیرے کا
۔۔۔
اک محبت کبھی نہیں کافی
وہ محبت کا جو سمندر ہو
۔۔۔
ان راستوں پہ چلنے کا یارا نہیں رہا
جو تھا وفا ہمارا، ہمارا نہیں رہا
۔۔۔
خواب آنکھوں میں بس گیا ہے تو
ایسا کب تھا وفا نے سوچا بھی
۔۔۔
بھوک انسانیت کی دشمن ہے
بھوک سے جنگ لازمی ہے وفا
۔۔۔
ان اہل سیاست سے نہیں کوئی میرا کام
یہ نام پہ کرتے ہیں سیاست کے یہاں قتل
۔۔۔
سب سے سستا بکتا ہے انسان یہاں
بیچتے ہیں انسان وفا ایمان یہاں
۔۔۔
کہاں سے لاوں بتا یہ بولتے ہوئے لفظ
ہر ایک لفظ کو گونگا بنا دیا تو نے
۔۔۔
وفا میں خود سے ہر اک بات کرتی رہتی ہوں
مجہے ہے علم سفر ذات کرتی رہتی ہوں
۔۔۔
نادانی ہے جو کیا دل نادان نے کی ہے
اب کرنے کے بعد ہونےلگا ہے مجھے احساس
۔۔۔
مجہے اس شخص نے کیا کردیا ہے
میں سوتے میں بھی اب تو جاگتی ہوں
۔۔۔
اب یہ دعا ہے ہاتھ میں تیرا ہاتھ رہے
جیون جتنا باقی تیرا ساتھ رہے
۔۔۔
میری آنکھوں کی تو تعریف مت کر
میرے دل میں اُتر پہچان مجھ کو
۔۔۔
وفا میں فرقت کی آگ میں کیسے جل رہی ہوں
مجہے خبر ہی نہیں ہے لیکن پگھل رہی ہوں
۔۔۔
اے میری جان سنو تم سے میں شرمندہ ہوں
دل جو تیرا تھا کسی اور پہ آیا ہوا ہے
۔۔۔
جو کچھ ہوا پتہ ہی نہیں کس طرح ہوا
وہ دیکھتا رہا میں اسے دیکھتی رہی
۔۔۔
برسوں سے وفا آنکھوں میں برسات نہیں تھی
اب پیار ہوا ہے تو یہ احساس ہوا ہے
۔۔۔
اب تک یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو گئی
وہ شخص کس طرح سے مرے دل میں آ گیا
۔۔۔
وفا کا لفظ خالی لفظ کب ہے
وفا تو ایک صحیفہ ہے ازل کا
۔۔۔
جو انتخاب ہے وہ بہترین کرتی ہوں
یہ بات دشمن جاں نے بھی مان لی میری
۔۔۔
میں کہ اس شخص کو ہے اپنا جو سلطاں مانا
خاک پہ بیٹھ کے بھی اسکے برابر ہوں میں
۔۔۔
میں جسکو چاہوں وہ مجھکو چاہے یہی تو انعام زندگی ہے
نظر کا تیری یہ معجزہ ہے کہ مجھ کو ایسا ہُنر ملا ہے
۔۔۔
یہی بہار کا موسم تھا جب ملے تھے ہم
اسی بہار کے موسم میں تم جدا بھی نہیں
۔۔۔
اذن جو مل گیا ہے لکھنے کا
مستقل اب یہ سلسلہ لکھنا
۔۔۔
راز جو زمانوں سے منکشف نہ ہو سکا
راز وہ بتا گئی حرف حرف روشنی
۔۔۔
یہ دھرتی ماں کی صورت ہے گلیوں کو اس کی سنواریں گے
ہم اپنے عزم و ہمت سے ہاں اس کے چمن کو نکھار یں گے
۔۔۔
ایک خانہ جو اعتراف کا ہے
اُس میں ڈٹ کر قبول لکھوں گی
۔۔۔
درس جو تھے مرے بزرگوں کے
عہد نو میں فضول ہیں پیارے
۔۔۔
کتنے برسوں سے اب بھی تازہ ہے
پرس میں اک جو پھول رکھا ہے
۔۔۔
یہ اور بات تم نے بھلایا ہمیں مگر
او بے وفا تو یاد بہ ہر گام آئے گا
۔۔۔
پاؤں میں ہم نے یاد تری جب سے باندھ لی
رقصاں ہمارے ساتھ زمین و زماں رہے
۔۔۔
اب اس سے زیادہ کوئی مجبور ہو کتنا
اپنی ہی غزل اُس کو سنا سکتی نہیں ہوں
۔۔۔
اس پیار کی دنیا کا دستور پرانا ہے
آغاز تو دیکھا ہے انجام نہیں دیکھا
۔۔۔
تمہاری تلخ باتوں پر توجہ کم ہی دیتی ہوں
تمہارا روٹھ جانا بھی نظر انداز کرتی ہوں
۔۔۔
اُس سے ملنے کا موسم رہا مستقل
پھر بھی شاید ذرا کچھ کسک رہ گئی
۔۔۔
زیادہ تو نہیں میں سوچتی پر
جو سوچوں تو میں اکثر سوچتی ہوں
۔۔۔
غم دل کی حقیقت جان لی ہے
غم جاں سے لپٹنا پڑ گیا ہے
۔۔۔
معجزہ ہے یہ شبستان وفا کا بے شک
ساتھ تیرا نہ ملا ہاں تری قسمت جو ملی
۔۔۔
لکھاہے کردار اپنا میں نے
میں اک کہانی ہوں مختصر ہوں
۔۔۔
باہر نیلا گہرا اُجلا اُجلا سناٹا
اندر کی دنیا میں ایک قیامت ہے
۔۔۔
تیری چاہت میں بھلا دکھ یہ اُٹھایا کیا ہے
حادثہ ایسا فلک نے یوں دکھایا کیا ہے
۔۔۔
اس طرح بدلہ لیا بیمار سے
سر کو کاٹا اپنی خود تلوار سے
۔۔۔
عشق کی معراج وہ اپنا سہارا ہو گیا
وہ کسی کا بھی تھا لیکن اب ہمارا ہو گیا
۔۔۔
کوئی بھی ساتھ نہیں دیتا مصائب میں کبھی
اپنے سے سایہ بھی پھر اپنا جُدا ہوتا ہے
۔۔۔
وفا یہ شعر جو میرے ہیں سب میری کہانی ہیں
میری عادت نہیں ہے قافیہ بندی ہو شعروں میں
۔۔۔
آنکھوں میں سمٹ آیا ہے تصویرکا غم
داستاں اپنی ہی تصویر کی لگتی ہے مجہے
۔۔۔
شمع کس طرح جلی مجھ سے وفا پوچھیں تو۔
میرے ہر سانس میں شمع کی جلن باقی ہے
۔۔۔
دھوپ سہہ کر بھی مسکراتی ہوں
چاند کو رات دن ستاتی ہوں
۔۔۔
رفاقتوں کا ہنر دل سے نبھایا جائے
زخم کیسا ہو ہنسی میں ہی چھپایا جائے
۔۔۔
اُس کے سر پر ہے ہر دعا میری
وہ کہ سمجھا نہیں وفا میری
۔۔۔
اُلجھی ہوں شب و روز کی اُس بخیہ گری میں
اے جان سخن تجھ سے میں غافل تو نہیں ہوں
۔۔۔
جب زندگی میں تم سے تعلق نہ تھا کوئی
مرنے کے بعد قبر پہ آئے ہو کس لیئے
۔۔۔
وفا ؔہوں اور وفاؔ سے ہی خمیر اپنا ہ بناہوا ہے
قلم سے اپنےہراک ورق پر فقط محبت لکھا ہوا ہے
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید