مختلف اشعار سالگرہ کے عنوان سے
ثمینہ گل وفا
اشعار
مشاہدات: 149
پسند: 0
مختلف اشعار سالگرہ کے عنوان سے
۔۔۔
غموں کی شب میں چراغِ وفا جلاتے ہیں
ہم اپنے چہرے پہ ہر دم خوشی سجاتے ہیں
یہ دن ہے خاص اور یہ لمحے ہیں پیار کے
مہکا رہے ہیں ہم کو یہ جھونکے بہار کے
چراغ جلیں، دعائیں دیں سب لوگ
یہ گیت پیارکے ہیں اور محبتوں کےجوگ
تمہاری ہنسی جیسے چاندنی رات
دلوں میں جگائے نئی کوئی بات
آج کے دن ہر لمحہ ہو خوشیوں سے بھرپور
زندگی میں ہو روشنی دائم پل پل چمکے نور
دن ہے خوشی کا خواب سہانے
لگی ہے ہر سوخوشبو چھانے
خوشی کا یہ دن ہےلو وعدہ کریں
محبت کے رنگ ہی ہمیشہ بھریں
مبارک ہو تم کو یہ دن خوشنما
دعا ہے ہنسو تم ہمیشہ وفا!
قربت شب کے چراغوں سے مہک اٹھا جہاں
دل کی دھڑکن نے سنائی کس سفر کی داستاں
واپس جائیں