دسمبر میں تیری یاد
۔۔۔
دسمبر کی سرد شاموں میں،
تیری یاد کا چراغ جلتا ہے۔
ہر سانس کے دھندلکے میں،
تیری باتوں کا عکس پلتا ہے۔
یہ ٹھنڈی ہوائیں، یہ بھیگی راتیں،
تیری خوشبو لیے چلتی ہیں۔
کہیں دور کہانیوں کے جنگل میں،
تیری باتیں مجھے ڈھونڈتی ہیں۔
دھند کے پردے میں چھپی ہوئی،
تیری ہنسی کا ساز سنتی ہوں۔
یادوں کے برفیلے دریچوں میں،
تیرا لمس پگھلتا دیکھتی ہوں۔
دسمبر کی یہ راتیں، یہ لمحے،
کہاں لے جاتے ہیں دل کو؟
تیری جدائی کا درد لیے،
یہ وقت روکتا ہے پل کو۔
میں اب بھی دسمبر میں جیتی ہوں،
جہاں تو میری ساتھ ہوتا ہے۔
دسمبر کا ہر اک لمحہ،
تیری یادوں سے مہکتا رہتا ہے۔