پردیس کی یادیں
پردیس کی گلیاں، اجنبی منظر،
دل میں بسا ہے وطن کا پیکر۔
یادوں کے سائے، خوابوں کا جہاں،
دور ہیں اپنے، تنہا ہے مکاں۔
ہر سانس میں خوشبو مٹی کی ہو،
ہر بات میں الفت جڑوں کی ہو۔
پردیس میں بس دل یہی کہے،
وطن کی ہوائیں کہیں سے ملے۔
ہر لمحہ یہاں پر اجنبی سا لگے،
وطن کی گود ہی دل کو پگھلائے۔
دعا ہے یہی، ایک دن لوٹ آئیں،
اپنوں کے سنگ پھر خوشیاں منائیں۔