گلے مل لو ۔
۔۔۔
گلے مل لو، یہ لمحے پھر نہیں آئیں گے شاید
یہ خوشبو کے ہیں جھونکے
تمہیں بھی یوں ہی بہکائیں گے
یہ جیون اک مسافرہے
حسیں لمحوں کا جیسے کارواں ہے
سنو اب کل کا وعدہ نہ ہی کرنا
خبر کیا ہے کہ یہ سب داستاں ہے
گلے مل لو کہ شاید یہ ہی پل ایک آخری ہو
گلے مل لو،
کہ پیغام محبت آج دینا ہے
گلے مل لو
دلوں کے فاصلے، پل میں مٹا دو
محبت کے دریچے، کھول کے چہرہ دکھا دو
تمہیں یہ علم ہے کہ زندگی کرنا بسر بھی اک ہنر ہے
مگر سچ تو یہی ہے یہ سفر سب بے ثمر ہے۔