یہ بھی کیا رفاقت ہے؟
۔۔۔
سوچتی ہوں میں جاناں
یہ بھی کیا رفاقت ہے
مجھکو تیری عادت ہے
تم کو میری عادت ہے
درمیاں سمندر ہیں
دائروں کے اندر ہیں
یہ بھی کیا رفاقت ہے
چاند بند مُٹھی میں
اک عجب سی خوشبو ہے
گیلے گیلے بالوں میں
آؤ ایسے کرتے ہیں
تتلیاں پکڑتے ہیں