اُس کی باتیں جیسےِ۔
ثمینہ گل وفا
نظمیں
مشاہدات: 118
پسند: 0
اُس کی باتیں جیسےِ۔
۔۔۔
اسکی باتیں جیسے ہوا کا جھونکا
جیسے پھول کی خوشبو
جیسے سانجھا جیون
جیسے شبنمی راتیں
جیسے عشق کی باتیں
جیسے چاند کی ٹھنڈک
جیسے روشن سورج
جیسے ہنستا ساگر
جیسے نور کنارہ
جیسے روشن تارہ
جیسے پیار کہانی
جیسے چنچل جوانی
جیسے خواب میں ملنا
جیسے گھاس پہ چلنا
جیسے باغ میں کلیاں
جیسے جاگتی گلیاں
اسکی باتیں رین اجیارا
اسکی باتیں سمے کی دھارا
واپس جائیں