ہفتہ، 21 مارچ 2026


مصنف: چارلس سپرجن | ترجمہ کار: اسٹیفن رضاؔ

یوحنا 16: 32

’’ تُم سب پراگندہ ہو کر اپنے اپنے گھر کی راہ لو گے اور مُجھے اکیلا چھوڑ دو گے۔‘‘
باغِ گتسمنی کے دُکھوں کی رفاقت میں صرف کچھ شاگرد ہی مسیح کے ساتھ شریک ہوئے۔ زیادہ تر شاگرد فضل میں اِس قدر آگے نہیں بڑھے کہ اُنہیں اِس ’’ جان کنی ‘‘ سے متعلقہ بھیدوں کا مشاہدہ کرنے کی اِجازت دی جاتی۔ وہ اپنے اپنے گھروں میں عیدِ فسح کی ضیافت میں مگن، اُن بہت سے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو صرف ہونٹوں سے تعظیم کے مصداق زندگی گزارتے ہیں، مگر انجیل کی حقیقی رُوح سے جُڑے معاملات میں ساری زندگی محض بچّے ہی رہ جاتے ہیں۔ بارہ، بلکہ صرف گیارہ کو یہ استحقاق دیا گیا کہ وہ گتسمنی باغ میں داخل ہو کر اِس ’’ بڑے نظارے ‘‘ کو دیکھیں۔ اُن گیارہ میں سے آٹھ کو کچھ فاصلے پر چھوڑ دیا گیا یعنی اُنہیں رفاقت تو حاصل تھی، لیکن وہ قربت حاصل نہ تھی جِس میں فقط معدودے چند ہی داخل کیے جاتے ہیں۔ صرف تین برگزیدہ لوگ ہی ہمارے خداوند کے اِس بڑے دُکھ کو قریب سے دیکھ سکے۔ مگر اُنہیں بھی اِس دُکھ کے اندر مداخلت کرنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ایک پتھر کے ٹپّے کا فاصلہ باقی رکھنا ضروری تھا ۔ اُسے انگوروں کے حوض کو اکیلے ہی روندنا تھا، اور اِس دُکھ کی گھڑی میں اُس کے اپنوں میں سے کوئی بھی اُس کے ساتھ نہ تھا ۔ پطرسؔ اور زبدیؔ کے دو بیٹے اُن چند ممتاز اور تجربہ کارایمانداروں کی نمائندگی کرتے ہیں جِنہیں ’’ آبائے کلیسیا‘‘ کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جِنہوں نے گہرے میں اُتر کر دیکھا تھا اور وہ اپنے مُنجّی کے دُکھوں کی بحرِ بیکراں کی تند و تیز لہروں کی پیمائش کِسی حد تک کر سکتے ہیں۔کچھ چُنیدہ زندگیوں کو دوسروں کی بھلائی کے لیے اور مستقبل کے مخصوص اور ہولناک معرکوں کے لیے مضبوط کرنے کی خاطر یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ مسیح کے ساتھ اندرونی حلقے میں داخل ہوں اور دُکھ سہتے ہوئے سردار کاہن کی التجا کو سُنیں۔ وہ اُس کے دُکھوں کی رفاقت میں شامل ہوتے اور اپنی زندگیوں میں اُس کی موت سے مشابہت پیدا کرتے ہیں ۔ البتہ ، زیادہ تر لوگ مُنجی کے دُکھوں کے پوشیدہ بھیدوں تک پوری رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ یونانی دُعائیہ کتاب میں ایک غیر معمولی جملہ درج ہے، ’’ تیرے انجان دُکھ‘‘۔ ہمارے خداوند کے قلب میں غم کا ایک ایسا اندرونی کمرہ بھی موجود تھا جہاں تک کسی انسانی علم اور رفاقت کی دسترس نہیں تھی ۔ یسوعؔ کو ’’ اکیلا چھوڑ دیا گیا ‘‘۔یسوعؔ کی زندگی کا یہ پہلو حقیقی معنوں میں ’’ بیان سے باہر ‘‘ہے! کیا واٹسؔ نے اپنے گیت میں ٹھیک نہیں گایا کہ،
اور وہ ساری انجانی خوشیاں جو تُو بخشتا ہے،
وہ تیرے انجانے دُکھوں سے خریدی گئی تھیں۔

ایوب 38: 31

’’ کیا تُو عقدِ ثُریّا کو باندھ سکتایا جبّار کے بندھن کو کھول سکتا ہے؟‘‘
اگر ہمارے اندر اپنی قابلیتوں پر فخر کرنے کی خُو پائی جاتی ہو ، تو خُدا کی قدرتِ کاملہ ہمیں جلد ہی دکھا دیتی ہے کہ ہم کس قدر حقیر ہیں۔ ہم ٹمٹماتے ستاروں میں سے چھوٹے سے چھوٹے ستارے کو بھی اُس کی جگہ سے ہِلا نہیں سکتے، اور نہ ہی صبح کی کرنوں میں سے کِسی ایک کو بجھا سکتے ہیں۔ ہم اپنی صلاحیتوں پر لاف زنی کرتے ہیں، مگر آسمان ہم پر ہنستا اور ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتا ہے۔ جب جب موسمِ بہار میں عُقدِ ثریا اپنے پورے جوبن پر چمکتا اور دمکتا ہے تو کوئی انسان اُس کی لطافت کو روک نہیں سکتا ، اور جب جبّار بلندیوں پر راج کرتا ہے اور موسمِ سرما کی بیڑیوں میں جکڑا ہوتا ہے، تو ہم اُس پر چڑھی برفیلی پٹیوں کو ڈھیلا نہیں کر سکتے۔ موسم خُدا کے مقرر کردہ وقت کے مطابق بدلتے ہیں، اور اِنسانوں کی پُوری نسل مل کر بھی اِس میں کوئی رتی برابر ردوبدل نہیں کر سکتی۔ اے خداوند، اِنسان ہے ہی کیا ؟طبعی دُنیا کی طرح رُوحانی دُنیا میں بھی اِنسان کی قدرت ہر لحاظ سے محدود ہے۔ جب روح القدس میں اپنی نعمتیں بانٹتا اور بکھیرتا ہے، تو کوئی دخل در معقولات کی جسارت نہیں کر سکتا۔ اِنسانوں اپنی تمام تر چالاکی اور خود فریبی کے ساتھ بھی خُدا کی قدرت میں جھانکنے سے قاصر ہے تاوقتیکہ وہ اُسے موقع اور اجازت نہ دے۔ جب وہ کِسی کلیسیا پر نظرِ کرم کرنے اور اُسے نئی زندگی بخشنے کا ارادہ کرتا ہے، تو بدترین دشمن بھی اِس نیک کام کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ وہ اِس کا مذاق تو اُڑا سکتے ہیں، لیکن وہ اِسے روک نہیں سکتے، بالکل ویسے ہی جیسے موسمِ بہار میں عقدِ ثریا کے جوبن پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ یہ خُدا کا انتظام ہےجس میں انسان کو مداخلت کی اجازت نہیں ۔ دوسری طرف، اگر خداوند اپنی حاکمیت یا عدل میں کِسی شخص کو اِس طرح جکڑ دے کہ وہ رُوحانی قید میں ہو، تو کون اُسے آزادی دلاسکتا ہے؟ صرف خُدا ہی یہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہی جبّار کے بندھنوں کو کھولتا ہے، اور اُس کے سوا کوئی دوسرا نہیں۔ یہ ہے ہمارے خُدا کی قدرتِ کاملہ۔ کاش وہ آج رات بھی اپنی اِسی قدرت کو کام میں لا کر ہماری زندگیوں میں اپنی معجزانہ برکت کو جاری کرے۔ اے خداوند، میرے موسمِ سرما کا خاتمہ کر، اور میری بہار کا آغاز ہونے دے۔ مَیں اپنی تمام تر خواہشوں کے باوجود اپنی رُوح کو موت اور افسردگی سے باہر نہیں نکال سکتا، لیکن تیرے لیے سب کچھ مُمکن ہے۔ مجھے آسمانی قدرت کی ضرورت ہے، تیری مُحبت کی روشن چمک، تیرے فضل کی کرنیں اور تیرے چہرے کی تجلی ہی میرے لیے عقدِ ثریا ہیں۔ مَیں گُناہ اور آزمائش کے باعث بہت دُکھ اُٹھاتا ہوں، یہ میرے لئے عقدِ ثریا اور جبار ہیں جنہیں میں کھول نہیں سکتا۔ اے خداوند، میری مدد کر۔ آمین۔
3