Fakhta logo
فاختہ بائبل اسٹڈی ٹولز
جلد متوقع مشمولات

حیرت ہے بڑی دیر سے انجان کھڑا ہے

عارف پرویز نقیب غزلیات مطالعات: 148 پسند: 0

حیرت ہے بڑی دیر سے انجان کھڑا ہے
جو بن کے مرے شعر کی پہچان کھڑا ہے
۔۔۔
اک ہاتھ میں کچھ پھول ہیں اک ہاتھ میں پتھر
کیا دے گا مجھے خود بھی حیران کھڑا ہے
۔۔۔
ہیں لوگ مجھے دیکھ کے انگشت بدنداں
حیران ہیں اِس شہر میں انسان کھڑا ہے
۔۔۔
وہ لمحہ ہمیں جس نے ملایا تھا کسی روز
بچھڑے ہیں تو وہ لمحہ پریشان کھڑا ہے
۔۔۔
دل کو ہیں نقیبؔ اس سے ہی مرہم کی اُمیدیں
ہاتھوں میں لئے جو کہ نمکدان کھڑا ہے
واپس جائیں

Please mark your visit by following our Facebook Page
اگر آپ بھی اپنی نگارشات فاختہ ڈاٹ آرگ پر شائع کرانا چاہتے ہیں تو۔۔۔ خوش آمدید